حکومت کی آئی ایم ایف کو کرپشن کے خاتمے اور چیئرمین نیب کی تقرری کے طریقہ کار پر نظرثانی کی یقین دہانی

اسلام آباد: حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کرپشن کا خاتمے کیلئے سرکاری افسران کے اثاثے پبلک اور چیئرمین نیب کی تقرری کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے گی، نیب کو ادارہ جاتی آزادی اور عملی خودمختاری کیلئے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تقرری کا شفاف نظام متعارف ہوگا ۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کو تحریری طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات نافذ کرے گا، جن میں دسمبر 2026 تک سرکاری افسران کے اثاثہ جات کے گوشوارے شائع کرنا اور جنوری 2027 تک قومی احتساب بیورو کو مکمل خودمختاری دینا شامل ہے۔
حکومت کے مطابق نیب کو ادارہ جاتی آزادی اور عملی خودمختاری فراہم کرنے کے لیے اس کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تقرری کا شفاف نظام متعارف کرایا جائے گا، جبکہ اس کے قواعد و ضوابط اور کارکردگی سے متعلق اعداد و شمار بھی عوام کے لیے جاری کیے جائیں گے۔ یہ تمام اقدامات جنوری 2027 تک ایک ساختی ہدف( اسٹرکچرل بینچ مارک) کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔



