Uncategorized

پولیس تحقیقات میں کوتاہی کا انکشاف، قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کی آیت نور کیس کی تفتیش نئی ٹیم سے از سر نو کرانے کی ہدایت

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ہری پور میں زیادتی کے بعد قتل کمسن بچی آیت نور کیس میں تفتیش نئی ٹیم سے از سر نو کرانے کی ہدایت کردی۔

کمیٹی کو رکن قومی اسمبلی بابر نواز نے کیس پر بریفنگ دی، پولیس کی جانب سے تحقیقات میں کوتاہی کا بھی انکشاف کیا۔

انہوں نے کہا آیت نورکے والدین نے بتایا کہ وہ پہلے 2 دن پولیس کویہ ثابت کرتے رہےکہ وہ میاں بیوی ہیں، خاتون ڈی ایس پی ہری پور نےآیت نورکی والدہ کوکہا تم نے بچی کومارا ہے ، والد سے پولیس نے زبردستی 164 کا بیان لیا۔

رکن قومی اسمبلی بابر نواز نے کہا آیت نورکی بازیابی کےلیے احتجاج ہوا تو معاملے کو کچھ سنجیدگی سے لیا گیا، آیت نورکی لاش 15 ویں دن ملی اور رپورٹ کے مطابق 7 دن پرانی تھی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچی ایک کنویں میں 5 دن زندہ پڑی رہی، لاش ملنے کے بعد گورنر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا فوری پہنچ گئے۔

رکن قومی اسمبلی بابر نواز نے بریفنگ میں بتایا کہ 15 دن بعد 3 بچوں کو گرفتارکیا گیا، جن 3 ملزمان کوپولیس نے آیت نورکیس میں گرفتارکیا کچھ پتا نہیں وہ کیسے نامزد ہیں؟ 11 سال کا جوبچہ آیت نورکوگھر سے لےکر نکلا اس نے کب یہ کہا 3 لڑکے تھے جن کے حوالے کیا؟

بابر نواز نے کمیٹی کو بتایاکہ کیس کی وہی افسران تحقیق کررہے ہیں جو غفلت کے مرتکب ہوئے، اب تک کی پولیس رپورٹ ردی کے ٹوکری میں ڈالنے کے قابل ہے، بچوں میں کسی کے پاس موبائل نہیں تھا اورپولیس کہتی ہے جیوفینسنگ سے گرفتاریاں کیں۔

رکن کمیٹی شمشیر علی مزاری نے کہا کیس میں پولیس کی کوتاہی پربھی مکمل تحقیقات ہونی لازمی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button